کیپٹن کرنل شیر خان ، نشان حیدر



کارگل کی جنگ میں دشمن پر اپنی دھاک بیٹھانے والے اور جرات و بہاری کے 
نتیجے میں اعلی ترین فوجی اعزاز حاصل کرنے والے کرنل شیر خان عہدے کے لحاظ سے تو کیپٹن تھے مگر کرنل کا لفظ بچپن سے ہی انکے نام کے ساتھ جڑا ہوا تھا،،،
کیپٹن کرنل شیر خان  یکم جنوری 1970 کو خیبر پختون خواہ کے شہر صوابی کے گاوں نواں کلی میں پیدا ہو ئے ، بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے شیر خان کے دادا نے فوج سے محبت کے باعث انکی پیدائش پر ان کا نام کرنل شیر خان رکھا ۔

کرنل شیر خان نے گورنمنٹ کالج صوابی سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد ائیرمین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں خدمات پیش کیں۔
سن 1992 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور 1994 میں 90 لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی ، جسکے بعد انکی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے سات اوکاڑہ میں ہوئی ، کیپٹن کرنل شیر خان اپنی خوش مزاجی کی وجہ سے آفیسرز اور ساتھیوں میں کافی مقبول تھے ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس افسر کو سبھی شیرا کہہ کر پکارے تھے۔
جنوری 1998 میں انہوں نے خود کو لائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا۔  وہ کارگل کی لڑائی میں ناردرن لائٹ انفنٹری سے منسلک تھے۔

کیپٹن کرنل شیر خان نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کی جنگ میں ٹائیگر ہل پر جرات و بہادری کا وہ کارنامہ انجام دیا جس کی دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا ، وہ 5جولائی کودشمن کی گولیوں کانشانہ بنے اور جام شہادت نوش کیا ۔ جرات و بہادری کے اس اعلی کارنامے پر انہیں اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔  
وہ اپنے آبائی گاوں میں سپردخاک ہیں ،انکی شہادت پر انکے گاوں کا نام انے نام پر رکھ دیا گیا تھا ۔

Comments